• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا نام تبدیل کرنے کی مانگ کی عرضی مسترد کر دی

Updated: January 22, 2026, 5:07 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک ایسی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا(بی سی سی آئی ) کو قومی کرکٹ ٹیم کو ’’انڈین کرکٹ ٹیم‘‘ کہنے سے روکنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔

Team India.Photo:INN
ٹیم انڈیا۔ تصویر:آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک ایسی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا(بی سی سی آئی ) کو قومی کرکٹ ٹیم کو ’’انڈین کرکٹ ٹیم‘‘ کہنے سے روکنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار کی اس عرضی دائر کرنے پر سرزنش کی اور کہا کہ دہلی ہائی کورٹ، جس نے اس سے قبل اسی طرح کی ایک عرضی خارج کی تھی، کو اس پر جرمانہ عائد کرنا چاہیے تھا۔
 چیف جسٹس کانت نے ریمارک دیا
چیف جسٹس کانت نے کہاکہ ’’آپ بس گھر بیٹھ کر عرضیاں تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟ نیشنل اسپورٹس ٹریبونل کے لیے بھی بہترین اراکین کے ساتھ ایک نوٹیفکیشن موجود ہے۔ عدالت پر بوجھ نہ ڈالیں۔‘‘ عرضی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا  ’’ہائی کورٹ نے درست قدم نہیں اٹھایا۔ کیا کوئی نظیر قائم کرنے والا جرمانہ نہیں لگایا گیا؟ ورنہ سپریم کورٹ میں اس طرح کی فضول عرضیوں کو کیسے روکا جائے گا؟‘‘
 بنچ نے کہا کہ اس حقیقت نے کہ درخواست گزار پر بھاری جرمانہ عائد نہیں کیا گیا، اسے سپریم کورٹ جانے کی حوصلہ افزائی دی۔ اگرچہ بنچ درخواست گزار پر  ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ لگانے کے موڈ میں تھی، تاہم وکیل کی پرزور درخواستوں کے بعد اسے معاف کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ  بی سی سی آئی  کو زبردست حمایت حاصل ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Bar & Bench (@barandbench)


 سپریم کورٹ کے جج نے کہاکہ  اگر  بی سی سی آئی یہاں آتی تو معاملہ مختلف ہوتا، لیکن انہیں زبردست حمایت حاصل ہے۔ وسیع کنٹرول کو اب قانونی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات دُم کتے کو ہلا رہی ہوتی ہے کیونکہ اس میں پیسہ شامل ہے۔‘‘ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں  ہائی کورٹ نے درخواست گزار، وکیل ریپک کنسل کو عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل )  دائر کرنے پر ڈانٹ پلائی  تھی۔
 جسٹس تُشار راو گیڈیلا نے ریمارک دیا 
جسٹس تُشار راو گیڈیلا نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیم  ہندوستان  کی نمائندگی نہیں کرتی؟ یہ ٹیم جو ہر جگہ جا رہی ہے اور  ہندوستان کی نمائندگی کر رہی ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ  ہندوستان کی نمائندگی نہیں کرتی؟ کیا یہ ٹیم انڈیا نہیں ہے؟ اگر یہ ٹیم انڈیا نہیں ہے تو براہِ کرم ہمیں بتائیں کہ یہ ٹیم انڈیا کیوں نہیں ہے۔‘‘  چیف جسٹس ڈی کے اُپادھیائے نے کہا کہ یہ  پی آئی ایل  عدالت کے وقت کا سراسر ضیاع تھی۔

یہ بھی پڑھئے:سدھارتھ ملہوترا باتوں سے زیادہ کام میں یقین رکھتے ہیں

ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’یہ عدالت کے وقت اور آپ کے اپنے وقت کا سراسر ضیاع ہے، ہمیں کسی ایک کھیل میں ایسی قومی ٹیم کے بارے میں بتائیں جس کا انتخاب سرکاری افسران کرتے ہوں۔ کیا دولتِ مشترکہ کھیلوں یا اولمپکس میں حصہ لینے والے  ہندوستانی  دستے سرکاری افسران کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں؟ کیا وہ  ہندوستان  کی نمائندگی نہیں کرتے؟ ہاکی، فٹ بال،  ٹینس کسی بھی کھیل کی مثال دے دیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے‘‘

 کنسل کی جانب سے دائر کردہ پی ایل آئی   میں دلیل دی گئی کہ بی سی سی آئی  تمل ناڈو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ایک نجی ادارہ ہے اور  ہندوستانی  آئین کے آرٹیکل ۱۲؍ کے مفہوم میں نہ تو ایک قانونی ادارہ ہے اور نہ ہی ریاست۔ اس میں کہا گیا کہ وزارتِ نوجوانانِ امور و کھیل نے متعدد آر ٹی آئی جوابات کے ذریعے واضح کیا ہے کہ بی سی سی آئی  کو قومی کھیل فیڈریشن   (این ایس ایف) کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اسے مالی امداد دی جاتی ہے۔ عرضی میں یہ بھی دلیل دی گئی کہ اس کے باوجود سرکاری میڈیا پلیٹ فارم بی سی سی آئی   بی سی سی آئی  کی کرکٹ ٹیم کو ’’ٹیم انڈیا‘‘ یا ’’بھارتی قومی ٹیم‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں اور کرکٹ نشریات کے دوران بھارتی قومی علامات جیسے پرچم کا استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK